کامیابی کی تین شرطیں

ک

ہر انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے۔ کوئی بھی ناکام ہونا نہیں چاہتا۔ کامیابی کی طلب انسان کی فطرت میں پیوست کر دی گئی ہے۔ لیکن اس کامیابی کو پایا کیسے جائے؟

چاہے معاملہ دینی ہو یا دنیاوی اپنے مقصد کو پانے اور کامیابی سے ہمکنار ہونے کیلئے ضروری ہے کہ انسان تین شرطوں کو پورا کرے۔ حقیقی کامیابی ان تین چیزوں کو جمع کیے بغیر نصیب نہیں ہوتی۔

۱۔ سچی طلب:کسی بھی چیز کو پانے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے انسان کےدل میں اس کے پانے کی سچی طلب ہو۔ وہ اس چیز کو اپنے لیے اتنا ضروری سمجھتا ہو کہ وہ اس کی حرص کرنے لگ جائے۔ دوسری چیزیں، لذتیں اور مصروفیتیں اس کے دل کو اپنے مطلوب سے پھیرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ یہی وہ سچی طلب اور حرص ہے جو کسی بھی چیز کو پانے کیلئے سب سے بڑا محرک ہے اور کامیابی کی طرف پہلا قدم ہے۔

۲۔ الله سے استعانت:سچی طلب کے بعد یہ بھی ضروری ہے کہ انسان اپنی ذات پر اعتماد کرنے کی بجائے اللہ رب العالمین سے مدد اور نصرت کی دعا کرے۔ وہ اپنی صلاحیت اور اسباب و احباب کی اہمیّت کو تسلیم کرنے کے باوجود اللہ کی مدد کو اپنے لیے زیادہ قابلِ اعتماد وسیلہ مانتا ہو۔ وہ اللہ سے دعا کرے کہ اس کی کوششیں اسے اپنے مقصد تک لے جانے میں کامیاب ثابت ہوں اور تمام رکاوٹوں کے باوجود وہ اپنے مطلوب کو پانے میں کامیاب ہوجائے۔ اسے یقین ہو کہ اللہ کی مدد کے بغیر ساری چیزیں بے کار اور بے سود ہیں۔

۳۔ عاجزی اور پست ہمتی کی بجائے انتھک کوشش: اللہ سے مدد مانگنا بے عملی کی ترغیب نہیں بلکہ عمل کی تقویت کا ذریعہ ہے۔ مقاصد کے حصول میں اللہ سے مدد مانگنا ضروری ہے لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مسلسل جدوجہد کو اپنا شعار بنانا بھی ضروری ہے۔ چاہے دنیا کا معاملہ ہو یا آخرت کا، مجاہدے اور مسلسل جدوجہد کے بغیر کوئی بڑی کامیابی نصیب نہیں ہوتی۔ اس لیے ایک طالب کو اللہ سے مدد طلب کرتے ہوئے اپنی ساری توجہات ، ساری صلاحیتوں اور تمام وسائل کو عزم و حوصلے کے ساتھ اپنے مطلوب کے پانے میں لگا دے۔جب بندہ سچی طلب اور توکل علی اللہ کے ساتھ اپنی کوششیں صحیح سمت میں لگا دیتا ہے تو اللہ ابھی اپنے فضل و کرم سے اسے کامیابی سے ہمکنار کر دیتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ صرف یہی تینوں چیزیں مقاصد کے حصول کیلئے ضروری ہیں، اس کی کیا دلیل ہے؟ اس کی دلیل معلم انسانیت محمد عربی ﷺکی ایک حدیث کا ٹکڑا ہے۔

آپ نے فرمایا:
(احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجَزْ )
[صحیح مسلم: کتاب القدر (۳۴)۔۲۶۶۴]


جو چیز تیرے لیے نفع بخش ہو اُس کی حرص کر اور اللہ سے مدد مانگ اور عاجز نہ بن۔

اس حدیث میں اپنے مطلوب کے حصول کیلئے تین چیزیں (۱) نفع بخش چیز کی حرص (۲) الله سے استعانت اور (۳) عاجزی سے پرہیز کا حکم دیا گیا ہے۔ یہی وہ تین چیزیں ہیں جو دنیا و آخرت کی کامیابی کی کنجی ہیں اور شرط ہیں۔

Add comment

By admin

Recent Posts

March 2021
M T W T F S S
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031