Ilm ke mu’amley mein teen ghalatiyan

I
عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ، قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ یَقُولُ: «اللَّہُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا یَنْفَعُنِي، وَزِدْنِي عِلْمًا›› 

 ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روا یت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ یوں فرمایا کرتے: اے اللہ جو کچھ علم تونے مجھے عطا کیا ہے مجھے اس سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرما، اور مجھے وہی علم عطا فرما جو میرے لیے فائدہ مند ہو، اور مجھے علم میں اور بڑھادے۔ (ترمذی، ابن ماجه) عن أبي هریرة [الصحیحة 3151]

علم کے معاملہ میں تین چیزیں انسان کی محرومی کا سبب بنتی ہیں۔

(1) حاصل شدہ علم سے عدمِ انتفاع:
علم کے معاملہ  میں پہلی غلطی یہ ہے کہ انسان اپنے حاصل شدہ علم سے فائدہ نہ اٹھائے۔ وہ اپنے علم کو ایمان کی صحت وتقویت کا ذریعہ نہ بنائے۔ وہ اس علم کے ذریعہ اپنے اعمال کی اصلاح نہ کرے۔ نہ وہ علم کی حفاظت کرے نہ اسے دوسروں تک پہنچا کر اپنے اور دوسروں کے لیے دائمی فائدے کا ذریعہ بنائے۔

(2) مضر علمِ میں اشتغال:
علم کے معاملہ میں دوسری غلطی یہ ہے کہ انسان فائدہ مند اور نقصان دہ علم میں فرق نہ کر پائے۔ وہ ایسے علوم میں مشغول ہو جو اُس کی آخرت کو برباد کردیں، اُس کے ایمان وعمل میں بگاڑ پیدا کردیں، اُسے اللہ اور آخرت سے دور کردیں، اُس کے اخلاق تباہ کردیں۔

(3) قلتِ علم :
علم کے معاملہ میں تیسری غلطی یہ ہے کہ اِنسان ادھوری معلومات پر قناعت کرلے۔ وہ کسی بھی معاملہ میں اِتنا علم حاصل نہ کرے جو اُس کے لیے ضروری اور کافی ہو۔ وہ قلت علمی کا شکار ہوکر رہ جائے۔
اِس حدیث میں اِن تینوں کمیوں سے حفاظت کی دعا سکھائی گئی ہے۔

By abuzaidzameer