Kya Allah Zalimon se be Khabar hai?

K

کیا اللہ ظالموں سے بے خبر ہے؟

Transliteration

انسانی تاریخ کا ہر صفحہ ظلم وستم کی طویل داستان کا ایک باب ہے۔ طاقتور کا کمزوروں پر ظلم کرنا رنگ ونسل کی حدود وقیود کا پابند نہیں، اور نہ ہی زمان ومکان کے بدلنے سے اِس میں کوئی فرق واقع ہوا ہے۔ ہر زمانہ میں طاقت کے نشہ میں چُور انسان کمزوروں کا استحصال کرتا آیا ہے۔

ظلم وستم کے اِس تسلسل نے بہت سوں کو بغاوت کے راستے پر رواں کردیا تو کتنوں کو مایوسی اور عاجزی کی ذہنی کوٹھری میں بند کردیا۔ بعض کو غم وغصہ نے سرے سے خالق ہی کا اِنکار کرنے پر مجبور کر دیا۔ اُنھوں نے کہا اگر اِس دنیا کا کوئی خالق ومالک ہوتا تو اِس میں یہ ظلم اور بگاڑ نہ ہوتا۔ اُنھوں نے بگاڑ کے وجود کو خالق کے عدمِ وجود کی دلیل بنالیا۔

لیکن کیا واقعی دنیا میں ظالم کا دندناتے پھرنا کمزوروں کے لیے مایوسی کا اعلان ہے؟ کیا مظلوموں کے لیے کوئی اِنصاف نہیں؟ کیا کوئی نہیں جو اقتدار کے قلعوں میں محفوظ اِن ظالموں کو انصاف کی عدالت میں کھڑا کرکے اُنکے خلاف عدل کا نفاذ کرے اور مظلوموں کو اُن کا حق دلاکر اُنکے زخموں پر مرحم رکھے اور اُن کے دلوں کو تسکین دے؟

کیوں نہیں، یقیناً ایک دن آنے والا ہے جس میں ہر محروم اپنا چھینا ہوا حق پائے گا۔ ہر مظلوم اپنا بدلہ پائے گا۔ یہ وہ دن ہوگا جس دن قوت اور طاقت ظالم کا ساتھ چھوڑ کر مظلوم کے ساتھ ہوجائے گی۔ یہ قیامت کا دن ہوگا۔اسی دن کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا:
{وَلَا تَحْسَبَنَّ اللهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیہِ الْأَبْصَارُ مُہْطِعِینَ مُقْنِعِی رُءُوسِہِمْ لَا یَرْتَدُّ إِلَیْہِمْ طَرْفُہُمْ وَأَفْئِدَتُہُمْ هوَاءٌ }
اور کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ ظالم جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اُس سے غافل ہے۔ وہ تو اُنھیں اُس دن کے لیے ڈھیل دے رہا ہے جس دن نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ سر اُٹھائے وہ دوڑے چلے جارہے ہوں گے؛ اُن کی نگاہیں اُن تک واپس نہ لوٹیں گی اور اُن کے سینے (گھبراہٹ سے) خالی خالی ہو رہے ہوں گے۔ [إبراہیم: 43]

جنھیں دنیا انصاف نہیں دے سکی اُنھیں آخرت اُن کا انصاف ضرور دلائے گی۔

By abuzaidzameer