Naseehat

N

کڑوی نصیحت

میمون بن مہران جلیل القدر تابعی ہیں۔ وہ 40 ہجری میں پیدا ہوئے اور 117 ہجری میں ان کی وفات ہوئی۔ امام الذہبی کے قول کے مطابق انھوں نے متعدد حضرات صحابہ مثلاً ابوہریرہ، عائشہ، ابن عباس وابن عمر رضی اللہ عنہم اجمعین سے روایت کی ہے۔
جعفر بن برقان فرماتے ہیں: میمون بن مہران نےمجھ سے کہا: اے جعفر، جو بات مجھے بری لگے وہ میرے سامنے کہدو، اس لیے کہ ایک آدمی اس وقت تک اپنے بھائی کا خیرخواہ نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اس کے منہ پر وہ بات نہ کہے جو اسے بری لگے۔ ( ۱)

نصیحت ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔ خصوصا جبکہ نصیحت میں انسان کی کوتاہی پر تنقید کا پہلو بھی شامل ہوجائے۔ عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے متعلقین میں سے کسی پر تنقید کرنے اور اس کی غلطی پر زبان کھولنے سے گریز کرتے ہیں۔ کوئی کسی کے ساتھ اپنے تعلقات بگاڑنا نہیں چاہتا۔ تعلقات کا لحاظ اور دوسروں کی ناراضگی کا خوف ان کی اصلاح میں مانع بن جاتا ہے۔ سماج میں ایک شخص اپنے خلاف تنقید سننے کی ہمت نہیں رکھتا تو دوسرا اس پر تنقید کرنے کی جرأت بھی نہیں کرتا۔ کسی کی انا اور کسی کے تحفظات ایک دوسرے کے غلطی ہی پر برقرار رہنے کا معقول عذر بن جاتے ہیں۔ اگر کوئی ہمت کرکے بولتا بھی ہے تو پیٹھ پیچھے، کسی اور کے سامنے۔ یہ چیز کسی کی اصلاح تو نہیں کرتی البتہ آپس کی نفرت اور باہم عدم اعتمادی کا دروازہ کھول دیتی ہے۔

ایک با اصول انسان کا حال اس سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ مداہنت اور خوش فہمی کی دنیا میں جینے والا نہیں ہوتا بلکہ وہ دوسروں کی اصلاح کی خاطر کڑوی بات بولنے اور اپنے خلاف کڑوی بات سننے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ وہ اپنے خلاف تنقید کو جذبات کی عینک سے دیکھنے کی بجائے حقیقت پسندی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ کوئی اس کی غلطی کی نشاندہی کرے تو اس کو وہ اپنی بے عزتی اور دل آزاری کا معاملہ نہیں بناتا بلکہ اصلاح اور ترقی کا معاملہ بنا لیتا ہے۔ وہ اپنے ناقد کو اپنا دشمن سمجھنے کی بجائے اپنا خیرخواہ سمجھتا ہے۔ ایک بااصول انسان اعلی سطح پر جینے والا انسان ہوتا ہے۔

 


(۱) قَالَ جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ: قَالَ لِي مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ: «يَا جَعْفَرُ، قُلْ لِي فِي وَجْهِي مَا أَكْرَهُ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَنْصَحُ أَخَاهُ حَتَّى يَقُولَ لَهُ فِي وَجْهِهِ مَا يَكْرَهُ» [حلية الأولياء وطبقات الأصفياء ج 4 ص 86]

By abuzaidzameer