Quran kis ke liye hidayat hai?

Q

قرآن کریم کتابِ ہدایت ہے۔ اِس ہدایت کے مخاطب اگرچہ سارے جِن واِنس ہیں لیکن اِس ہدایت سے واقعی اِستفادہ انھیں کو نصیب ہوتا ہے جو تقوی کی صِفت سے متصف ہوں۔ اسی لیے اللہ تعالی نے ایک جگہ قرآن کو سارے لوگوں کے لیے ہدایت بتایا(۱)  تو دوسری جگہ اسے متقین کے لیے ہدایت قرار دیا(۲)۔

قرآن سے ہدایت پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کے دل میں انجام کا خوف ہو، یہی وہ خوف ہے جو انسان کو اپنے طرزِ عمل پر نظر ثانی کرنے اور اپنا محاسبہ کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ لہذا جو شخص اپنے انجام کے بارے میں فکر مند ہو اور بربادی سے بچنے کا ارداہ رکھتا ہو وہ نصیحت کرنے والے کی نصیحت قبول کرتا ہے اور اس نصیحت کی روشنی میں اپنے مزاج اور طرزِ عمل کی اصلاح بھی کرتا ہے۔

اس کے برعکس جو شخص مستقبل کے اندیشوں کی بجائے حال کی لذتوں میں ڈوبا ہوا ہو وہ غفلت اور اعراض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس کی نگاہ آج کی لذت پر ہوتی ہے لہذا کل کی ہلاکت کے بارے میں نصیحت اس کی توجہ اپنی طرف پھیر نہیں پاتی۔ بعض اوقات تو نہ صرف یہ کہ وہ نصیحت قبول نہیں کرتا بلکہ اسے مزاق بھی بنا لیتا ہے۔

جس مریض کو اپنے مرض کی ہلاکت خیزیوں کا احساس ہو وہ طبیب کی بات پر دھیان دیتا ہے اور اس کی نصیحت پر عمل بھی کرتا ہے۔ وہ اس کی دی ہوئی دوا کڑواہٹ کے باجود پی لیتا ہے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے پرہیز بھی کرتا ہے۔


(۱) فرمایا: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی أُنْزِلَ فِیہِ الْقُرْآنُ ھُدًى لِلنَّاسِ} رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو سارے لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ [البقرة: 185]
(۲) فرمایا: {ذَلِکَ الْکِتَابُ لَا رَیْبَ فِیہِ ہُدًى لِلْمُتَّقِینَ } یہ وہ کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں، (یہ کتاب ) متقین کے لیے ہدایت ہے۔ [البقرہ 2]

By abuzaidzameer