Raaey qaaim karney ka saheeh tareeqa

R

 اسلام کےبارے میں فیصلہ کرنے کے دو طریقے ہیں۔

ایک یہ کہ اسلام کو اس کے اصل مآخذ سے معلوم کرکے اس کے بارے میں رائے قائم کی جائے۔ دوسرے یہ کہ اسلام کے مخالفین کے پروپگنڈے یا ادھوری معلومات پر مبنی ذاتی تجزیہ کو اسلام کےسلسلے میں فیصلہ کے لیے بنیادی حیثیت دے دی جائے۔

پہلا طریقہ اصولِ تحقیق اور عدل و انصاف پر مبنی طریقہ ہے جب کہ دوسرا طریقہ مزاجِ علم  اور  عدل وانصاف دونوں سے خالی ۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ انسانوں کی اکثریت اسی دوسرے طریقہ کو اپنائے ہوئے نظر آتی ہے۔ اور اسی کا نتیجہ ہے کہ دینِ اسلام جو اپنی اصل تعلیمات کی روشنی میں دین ِ رحمت ثابت ہوتا ہے وہی اسلام اس غیر علمی تحقیق وپروپگنڈہ کے نتیجہ میں امن دشمن دین نظر آنے لگتا ہے۔