Shaan e Rasool ﷺ

S

شانِ رسول

Transliteration

انبیاء کی شخصیت پر کیچڑ اچھالنے کا معاملہ نیا نہیں۔ انسان اپنی جہالت اور خواہش پرستی کے سبب ہمیشہ سے حق اور اہل حق کی مخالفت کرتا آیا ہے۔ حق اور اسکے حامِلِین کو سماج میں غلط ثابت کرنے کے لیے باطل کے شیدائیوں کو سب سے آسان راستہ یہی ملا کہ وہ داعیانِ حق کی شخصیت ہی کو مجروح ثابت کردیں تاکہ حق کی دعوت خود بخود بے قیمت ہوکر رہ جائے۔

یہی چیز محمد ﷺ کے ساتھ بھی ہوئی۔جاہلیت سے آلودہ عرب کے صحرا میں جب آپ ﷺنے دینِ حق کی تبلیغ کا آغاز کیا تو کبھی آپ کو جادوگر کا لقب دیا گیا [ص ۴] تو کبھی آپ کو مَسْحُور قرار دیا گیا [الفرقان ۸]۔ کسی نے آپ کو کاهِن  کہہ کے پکارا تو کسی نے آپ کو شاعر بنا دیا [الحاقہ ۴۰-۴۲]۔ یہ القاب خود ہی اِتنے مُتَضاد تھے کہ کسی بھی اعتبار سے قابلِ اِلْتِفات نہ تھے بلکہ یہ خود اپنی تردید آپ تھے۔ لیکن حقیقت یہ ہے جب انسان حق کا اعتراف نہیں کرنا چاہتا تو کمزور سے کمزور “دلیل” کو بھی حق کے انکار کے لیے سہارا بنا لیتا ہے اور اِس “دلیل” کے دامن میں پناہ لے کر اپنے انکارِ حق کے لیے “بنیاد” فراہم کرلیتا ہے۔

اللہ تعالی نے آپ ﷺکی زندگی ہی میں اعلان کردیا تھا کہ آپ کو مجنون قرار دینے والے خود ہی پاگل اور احمق ثابت ہوں گے [القلم۲-۶]۔ نہ صرف آپ کی زندگی میں بلکہ آپ کے بعد بھی کئی ناعاقبت اندیش کھڑے ہوئے اور انھوں نے آپ ﷺ پر کیچڑ اچھالنے اور آپ کے دامن کو داغدار کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ لیکن نتیجہ یہی نکلا کہ وہ خود ہی گمنامی کے اندھیروں میں دفن ہوکر رہ گئے اور نبی کریم ﷺ کی شخصیت آج بھی سورج کی طرح روشن ساری انسانیت کی رہنمائی کررہی ہے۔

اللہ تعالی نے فرمایا: {يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا }  اے نبی، ہم نے آپ کو گواہ بنا کر اور خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا بناکر بھیجا ہے؛ اور اللہ کے حکم سے لوگوں کو اُس کی طرف بلانے والا بناکر اور ایک روشن چراغ بناکر بھیجا ہے۔ [الاحزاب: ۴۵-۴۶]

سورج کے اُجالے کا منکِر خود ہی جہالت اور فراموشی کے اندھیروں میں گم ہوجاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی شخصیت کل بھی اپنی شان کے ساتھ مُسَلَّم تھی اور آج بھی مُسَلَّم ہے۔

By abuzaidzameer