Shukr aur Shikayat

S

شکر اور شکایت

یونس بن عبید رحمہ اللہ صغار تالعین میں سے ہیں۔ ایک شخص اُنکے پاس آیا اور اپنی تنگدستی کی شکایت کرنے لگا۔ انھوں نے اُس سے پوچھا: کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ تمہیں اپنی بینائی کے بدلے ایک لاکھ درہم دیدیے جائیں؟ اُس نے کہا: نہیں! فرمایا: تمہارے دونوں ہاتھوں کے بدلے ایک لاکھ درہم؟ اُس نے پھر کہا: ہر گز نہیں! فرمایا: دونوں پاؤوں کے بدلے؟ کہا: نہیں! یونس بن عبید نے ایک ایک کرکے اُس پر اللہ تعالی کی نعمتیں گنوائیں اور پھر کہا: میں تو دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے پاس کئی لاکھ ہیں اور تم محتاجی کی شکایت کر رہے ہو؟ [شعب الایمان  4149](1)

اِس دنیا میں اِنسان کو سب کچھ نہیں ملتا ۔ وہ کچھ پاتا ہے تو کچھ نہیں بھی پاتا۔ دنیا میں ہر شخص کسی نہ کسی اعتبار سے محروم ہے۔ کوئی نہیں جو سب کچھ پائے ہوئے ہو۔ چاہے انسان مالدار ہو یا غریب، بادشاہ ہو یا فقیر اِس قانون سے کوئی مستثنی نہیں۔ لہذا اِس دنیا میں خوشگوار زندگی کا  راز یہ ہے کہ انسان اپنی نگاہ اُن چیزوں پر نہ رکھے جو اُسے نہیں مل سکیں بلکہ اُن چیزوں پر رکھے جو اُسے ملی ہوئی ہیں۔

محرومی کا احساس شکایت پیدا کرتا ہے اور پانے کا احساس شکر۔ محرومی غمگین کرتی ہے اور پانا خوش۔ انسان کی کمزوری یہ ہے کہ وہ مال ودولت سے محرومی کی شکایت لے کر بیٹھ جاتا ہے لیکن یہ نہیں دیکھتا کہ کتنی ساری ایسی نعمتیں اسےحاصل ہیں جو دولت سے بھی خریدی نہیں جاسکتیں۔اِن نعمتوں کا یونہی مل جانا انسان کو اُن کی واقعی قیمت سمجھنے سے محروم کردیتا ہے۔

کھوئے ہوئے پر افسوس انسان کو پست ہمتی اور ناکامی کی طرف لے جاتا ہے۔ اسکے برعکس حاصل شدہ وسائل کی قدر خوشی اور حوصلہ پیدا کرکے اُسے کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔ شکر کامیابی کی سیڑھی ہے اور شکایت ناکامی کا گڑھا۔


(۱) عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَامِرٍ أَوْ غَیْرُهِ مِنَ الْبَصْرِیِّینَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ یَشْکُو ضِیقَ حَالِهِ، فَقَالَ لَهُ یُونُسُ: أَیَسُرُّكَ بِبَصَرِکَ هَذَا الَّذِی تُبْصِرُ بِهِ مِائَةَ أَلْفَ دِرْهَمٍ؟ قَالَ الرَّجُلُ: لَا. قَالَ: فَبِیَدَیْكَ مِائَةُ أَلْفِ دِرْهَمٍ؟ قَالَ الرَّجُلُ: لَا. قَالَ: فَبِرِجْلَیْكَ؟ قَالَ الرَّجُلُ: لَا. قَالَ: فَذَکَّرَهُ نِعَمَ اللهِ عَلَیهِ. فَقَالَ یُونُسُ: أَرَى عِنْدَكَ مَا بَیْنَ مِئَاتِ آلَافٍ، وَأَنْتَ تَشْكُو الْحَاجَةَ! [هب: 4149]

By abuzaidzameer